12 جون 2015 - 01:53
اسرائیلی عوام کو اپنے صیہونی جاسوس حکومت سے نفرت

اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی داخلی سلامتی کا خفیہ ادارہ"شاباک" اسرائیلی جامعات میں زیرتعلیم طلباء وطالبات کی بھی جاسوسی کررہا ہے۔ شاباک کی جانب سے تمام جامعات کے لیے ان کے فضلاءکی تفصیلات مہیا کرنا لازمی قراردے رکھا ہے۔

 اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اخبار"ہارٹز" نے جامعات کے ایک ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ تمام جامعات خفیہ ادارے" شاباک" کو اپنے تمام طلباء کی فہرستیں اور ان کے بارے میں تمام کوائف مہیا کرتی ہیں۔ خاص طورپر جامعات کے فارغ التحصیل ہونے والوں کے بارے میں مکمل اور مفصل معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کے شناختی کارڈ نمبر، رہائش، علاقہ، فون نمبر، دوران تعلیم ان کے چال چلن تک کی معلومات خفیہ اداروں کو مہیا کی جاتی ہیں۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ "شاباک" کو شہریوں کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی کے معاملے میں استثنیٰ حاصل ہے اور قانونی طورپر خفیہ ادارے کو شہریوں کی ذاتی معلومات تک رسائی میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔

 صرف یہی نہیں بلکہ اسرائیلی فوج، پولیس، ملٹری انٹیلی جنس، سول انٹیلی جنس اور دیگر ادارے بھی جب چاہتے ہیں مطلوبہ شخص کسی بھی شخص کے بارے میں ہرقسم کی معلومات حاصل کرلیتے ہیں۔

 اخباری ذریعے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے کی جانب سے یہ معلومات اس لیے اکھٹی کی جاتی ہیں تاکہ بعد میں یونیورسٹیوں کے فضلاء کو فوج میں جبری طورپر بھرتی کیا جاسکے۔

 حال ہی میں اسرائیلی رکن کنیسٹ تمار زندبیبرگ نے وزیراعظم بنجمن نتین یاھو کو ایک پیغام ارسال کیا تھا جس میں ان سے طلباء کےبارے میں خفیہ اداروں کو معلومات کی فراہمی کے حوالے سے وضاحت طلب کی گئی تھی تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا وزیراعظم نے اس کی کیا وضاحت کی ہے۔ آیا تمام معلومات صرف طلباء کی اکٹھی جا رہی ہیں یا عام شہری بھی اس میں شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169